ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل؛ مسلمانوں کو پھر ایک بار میڈیا کے میدان میں آگے آنے کی ضرورت؛ ادارہ ادب اطفال کا تعلیمی اور تربیتی کیمپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

بھٹکل؛ مسلمانوں کو پھر ایک بار میڈیا کے میدان میں آگے آنے کی ضرورت؛ ادارہ ادب اطفال کا تعلیمی اور تربیتی کیمپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

Tue, 17 Oct 2023 01:41:11    S.O. News Service

بھٹکل 17/اکتوبر (ایس او نیوز) جد و جہد آزادی  کے زمانے میں ملک کے مسلمان میڈیا کے میدان میں کافی آگے تھے، جنگ آزادی میں علماء نے میڈیا کے استعمال سے ہی ملک کے تمام باشندوں کو متحد کیا تھا اور ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں میڈیا کا رول ہی سب سے اہم تھا۔ لیکن آزادی کے بعد جیسے ہی مسلمان میڈیا سے دور  ہوتے گئے، مسلمانوں کی تنزلی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے مسلمان میڈیا کے میدان میں پھر سے آگے آئیں، مسلمانوں کو لے کر عوام کے اندر پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ یہ بات ساحل آن لائن کے مینجنگ ایڈیٹر عنایت اللہ گوائی نے کہی۔ 

ادارہ ادب اطفال کی طرف سے منعقدہ چھ  روزہ تعلیمی و تربیتی کیمپ کے اختتامی کلاس میں طلبہ کے سامنے میڈیا کی اہمیت اور اسکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے لیکن اس وقت گودی میڈیا جس طرح مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرکے نفرتی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے، اور ملک کے اکثریتی فرقے  کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کررہا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو کبھی گائے کی نقل و حمل کے نام پر ماب لنچنگ کرکے مارا جارہا ہے تو کہیں کسی اور بہانے سے حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عام باشندوں کی اکثریت امن و امان اور بھائی چارگی پر یقین رکھتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ عوام کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی طرف ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔ عنایت اللہ گوائی نے میڈیا کے ساتھ ساتھ  جمہوریت کے دیگر تین ستونوں لیجسلیچر، ایکزی کوٹیو اور عدلیہ کے میدان میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی تقریباً نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلمانوں کو اس تعلق سے بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ادارہ ادب اطفال کے زیر اہتمام چھ روزہ ورکشاپ کا آغاز 9/اکتوبر کو ہوا تھا، پہلے دن دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاد مولانا عبدالسلام ندوی نے حدیث کی اہمیت و افادیت اور ہندوستانی علماء کا اس کی ترویج و اشاعت میں کردار پر روشنی ڈالی تھی، مدرسہ ضیاء العلوم کنڈلور کے استاد مولانا مفتی محمود احمد برمارے نے تیسیر(سہولت) فقہ اسلامی کی روح، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاد اور ادارہ ادب اطفال کے رکن انتظامی سعود مجاہد ندوی اور مولوی جعفر صوان رکن الدین نے بالترتیب اقبال کی نظم "مسجد قرطبہ" کی روشنی میں تاریخ اندلس اور برصغیر کے ادباء اور شعراء کے درمیان  ادبی و علمی معرکے پر طلبہ کو معلومات فراہم کی تھیں جبکہ ورکشاپ کے پانچویں دن بھٹکل انجمن کالج کے پروفیسر جناب یاسین محتشم نے جدید چیلنجز اور نوجوان کے عنوان پر طلبہ کو مفید معلومات سے نوازا تھا۔


Share: